ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / راجستھان: جس ریاست میں حکومت، اس کو ملتی ہیں لوک سبھا انتخابات میں سب سے زیادہ سیٹیں

راجستھان: جس ریاست میں حکومت، اس کو ملتی ہیں لوک سبھا انتخابات میں سب سے زیادہ سیٹیں

Sun, 17 Mar 2019 23:26:27    S.O. News Service

جے پور، 17 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) راجستھان کی 25 لوک سبھا سیٹوں کے لئے مشن 25 لے کر چل رہی کانگریس کو گزشتہ 15 سال سے چلی آ رہی انتخابی روایت کا فائدہ ملنے کی امید ہے۔2004 کے بعد سے ہی ریاست میں اسی پارٹی کو لوک سبھا انتخابات میں زیادہ سیٹیں ملتی ہیں جس کی ریاست میں حکومت ہوتی ہے۔تاہم بی جے پی کو اس روایت میں تبدیلی کی امیدہے۔ریاست میں لوک سبھا کی 25 سیٹیں ہیں اور گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں یہ تمام نشستیں بی جے پی کے حصے میں گئیں تھی۔اس سے پہلے صرف ایک بار ہی سبھی سیٹیں کسی ایک پارٹی کے کھاتے میں گئی اور وہ الیکشن تھا 1984 کا۔اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہوئے اس انتخاب میں تمام نشستیں کانگریس نے جیتی تھی۔ریاست میں ایک بار کانگریس اور ایک بار بی جے پی کی حکومت بننے کی روایت رہی ہے۔اس کا ہی اثر لوک سبھا انتخابات پر لگتا ہے۔راجستھان میں لوک سبھا انتخابات کے نتائج کو دیکھا جائے تو 2004 سے ہی ایسا رخ دیکھنے کو ملا کہ ریاست میں جس پارٹی کی حکومت بنتی ہے، لوک سبھا انتخابات میں اسی کو زیادہ سیٹیں ملتی ہیں۔جبکہ عام طور پر ریاست کے اسمبلی انتخابات کے قریب چھ ماہ بعد ہی لوک سبھا انتخابات ہوتے ہیں۔ریاست میں 2003 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو 120 اور کانگریس کو 58 سیٹیں ملیں۔اس کے بعد 2004 کے لوک سبھا انتخابات میں ووٹروں نے 25 میں سے 21 نشستیں بی جے پی کی جھولی میں ڈال دیں۔چار سیٹیں کانگریس کو ملیں۔2008 کے اسمبلی انتخابات میں معاملہ پلٹ گیا۔کانگریس کو 200 میں 96 سیٹیں ملیں اور اشوک گہلوت نے حکومت بنائی۔بی ایس پی کے سارے ممبر اسمبلی کانگریس میں شامل ہونے سے کانگریس کو اکثریت مل گئی۔ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو 76 سیٹیں ملیں۔اس کے ٹھیک بعد 2009 میں لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو 20 اور بی جے پی کو چار سیٹیں ملیں۔ایک سیٹ پر آزاد امیدوار کروڑی لال مینا منتخب کئے گئے جو اس وقت کانگریس کے حامی تھے۔اسی طرح 2013 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو 163 سیٹیں ملیں اور کانگریس 21 سیٹوں پر سمٹ گئی۔لوک سبھا انتخابات کے نتائج تو اور بھی تعجب خیز رہے جب مودی لہر کے درمیان ریاست کے ووٹروں نے ساری 25 سیٹیں بی جے پی کو دے دیں۔یہ الگ بات ہے کہ گزشتہ سال دو سیٹوں پر ہوئے ضمنی انتخابات میں کانگریس جیت گئی۔گزشتہ دسمبر میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو ریاست کی 200 میں سے 100 سیٹیں ملی ہیں۔بی جے پی کے پاس 73 سیٹیں ہیں۔ حالانکہ دونوں پارٹیوں کو ملے ووٹوں میں فرق صرف تقریبا نصف فیصد کا ہے۔بی جے پی ذرائع کے مطابق پارٹی کو امید ہے کہ اس فرق کو وہ لوک سبھا انتخابات میں بڑھنے نہیں دے گی اور روایت کو توڑتے ہوئے اچھی کارکردگی کرے گی۔پارٹی کے قومی صدر امت شاہ نے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی شکست کے بعد جے پور میں اپنے پہلے پروگرام میں اس کی امید بھی ظاہر کی۔ریاست میں لوک سبھا انتخابات کے لئے ووٹنگ دو مراحل میں 29 اپریل اور چھ مئی کو ہونے ہیں۔


Share: